صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
684. (451) باب الأمر بالوتر من آخر الليل بذكر خبر مختصر غير متقصى ومجمل غير مفسر
رات کے آخری حصّے میں وتر پڑھنے کا حُکم کا بیان، ایک مختصر غیر مفصل اور مجمل غیر مفسر حدیث کے ذکر کے ساتھ
حدیث نمبر: 1082
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، وَالْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اجْعَلُوا آخِرَ صَلاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 472، 473، 990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 749، ومالك فى (الموطأ) برقم: 399، وابن الجارود فى "المنتقى"، 295، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، 1082، 1091، 1110، 1112، 1210، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1130، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1295، والترمذي فى (جامعه) برقم: 437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1144، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4588، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1546، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2882»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1082 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1082
فوائد:
سلف نے اس حدیث میں دو جگہوں پر اختلاف کیا ہے:
➊ نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کرنے کے جواز میں۔
➋ جب کوئی شخص رات کے اول حصہ میں وتر پڑھ لے پھر وہ رات کے کسی حصہ میں نوافل ادا کرنا چاہے تو اسے پہلا وتر ہی کافی ہوگا یا وہ وتر کو جفت بنا کر نوافل ادا کرے گا پھر وہ دوسرے وتر کا محتاج ہوگا یا نہیں۔
❀ پہلے اعتراض کا جواب صحیح مسلم میں منقول روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نفل ادا کرتے تھے۔
◈ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ وتر کے بعد نفل ادا کرنا اور بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہے۔
◈ اور دوسرے اشکال کے بارے میں اکثر علماء کا موقف ہے کہ اول رات کو وتر پڑھنے والا بعد میں جفت تعداد میں نوافل ادا کرے اور وہ پہلے وتر کو توڑے گا نہیں۔ [عون المعبود: 271/3]
سلف نے اس حدیث میں دو جگہوں پر اختلاف کیا ہے:
➊ نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کرنے کے جواز میں۔
➋ جب کوئی شخص رات کے اول حصہ میں وتر پڑھ لے پھر وہ رات کے کسی حصہ میں نوافل ادا کرنا چاہے تو اسے پہلا وتر ہی کافی ہوگا یا وہ وتر کو جفت بنا کر نوافل ادا کرے گا پھر وہ دوسرے وتر کا محتاج ہوگا یا نہیں۔
❀ پہلے اعتراض کا جواب صحیح مسلم میں منقول روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نفل ادا کرتے تھے۔
◈ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ وتر کے بعد نفل ادا کرنا اور بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہے۔
◈ اور دوسرے اشکال کے بارے میں اکثر علماء کا موقف ہے کہ اول رات کو وتر پڑھنے والا بعد میں جفت تعداد میں نوافل ادا کرے اور وہ پہلے وتر کو توڑے گا نہیں۔ [عون المعبود: 271/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1082]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1082 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي