صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
713. (480) بَابُ كَرَاهَةِ تَرْكِ صَلَاةِ اللَّيْلِ بَعْدَمَا كَانَ الْمَرْءُ قَدِ اعْتَادَهُ
آدمی کا رات کی نماز کا عادی ہونے کے بعد اسے چھوڑ دینا ناپسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 1129
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمُقْرِئُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَكُنْ مِثْلَ فُلانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ" . قَالَ يُونُسُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ لا تَكُنْ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فلاں شخص کی طرح ہرگز نہ ہوجانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اُس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔“ جناب یونس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ تم (فلاں کی طرح) نہ ہونا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1152، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1129، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2641، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1762، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1331، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4794، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6695»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1129 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1129
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ قیام اللیل واجب نہیں، کیونکہ اگر واجب ہوتا تو اس کے تارک کی اتنی مذمت ناکافی تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سخت مذمت کرتے۔
➋ ◈ ابن حبان کہتے ہیں: جس شخص میں کوئی عیب ہے، اس کی بد عملی سے دوسرے لوگوں کو بچانے کی خاطر اس کا نام لینا جائز ہے۔
➌ معمول کی عبادات پر دوام مستحب ہے اور اس میں کوتاہی نہ برتی جائے، نیز اس سے یہ بھی ماخوذ ہے کہ عبادت کا سلسلہ منقطع کرنا مکروہ فعل ہے خواہ وہ فرض عبادت نہ ہی ہو۔ [فتح الباري: 49/3]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ قیام اللیل واجب نہیں، کیونکہ اگر واجب ہوتا تو اس کے تارک کی اتنی مذمت ناکافی تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سخت مذمت کرتے۔
➋ ◈ ابن حبان کہتے ہیں: جس شخص میں کوئی عیب ہے، اس کی بد عملی سے دوسرے لوگوں کو بچانے کی خاطر اس کا نام لینا جائز ہے۔
➌ معمول کی عبادات پر دوام مستحب ہے اور اس میں کوتاہی نہ برتی جائے، نیز اس سے یہ بھی ماخوذ ہے کہ عبادت کا سلسلہ منقطع کرنا مکروہ فعل ہے خواہ وہ فرض عبادت نہ ہی ہو۔ [فتح الباري: 49/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1129]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1129 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمرو السهمي