صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
751. (518) باب استحباب الصلاة وكثرتها وطول القيام فيها يشكر الله لما يولي العبد من نعمته وإحسانه
نفل نماز بکثرت اور لمبے قیام کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرسکے
حدیث نمبر: 1182
ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَكَلَّفُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غُفِرَ لَكَ؟ قَالَ:" أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنی زیادہ نفل) نماز پڑھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوجھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مشقّت و تکلیف برداشت کر رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
زياد بن علاقة الثعلبي ← المغيرة بن شعبة الثقفي