🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
772. (539) باب الوصية بالمحافظة على صلاة الضحى
چاشت کی نماز پر محافظت کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاثٍ: بِصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلا أَنَامُ إِلا عَلَى الْوِتْرِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین کا موں کی وصیت فرمائی۔ ہر مہینے تین روزے رکھنے، اور یہ کہ میں وتر پڑھ کر سویا کروں، اور چاشت کی دو رکعات پڑھنے کی وصیت فرمائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1178، 1981، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 721، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1222، 1223، 2123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1676، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1432، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455، 760، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7259»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن كثير الثقفي، أبو يوسف
Newمحمد بن كثير الثقفي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
مقبول
👤←👥بشر بن خالد العسكري، أبو محمد
Newبشر بن خالد العسكري ← محمد بن كثير الثقفي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1222 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1222
فوائد:
➊ ان احادیث میں نمازِ چاشت ادا کرنے، جو شخص رات کے آخری حصہ میں بیدار نہ ہو سکے اس کے لیے سونے سے قبل وتر ادا کرنے اور ہر ماہ تین روزے رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ تینوں کام مستحب ہیں۔
➋ نمازِ چاشت کم از کم دو رکعت ہے اور دو رکعت نمازِ چاشت ادا کرنے سے اس کی فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔
➌ نمازِ چاشت کو مستقل ادا کرنا جائز و مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1222]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1222 in Urdu