صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
789. (556) باب الترتل فى القراءة إذا صلى المرء جالسا
جب آدمی بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1242
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" . لَمْ يَقُلِ ابْنُ هَاشِمٍ: فِي سُبْحَتِهِ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے ایک سال پہلے کے عرصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نفل نماز بیٹھ کر پڑھنی شروع کر دی، (جب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سورت تلاوت کر تے تو اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی طویل ہوجاتی۔ جناب ابن ہشام نے ” اپنی نفل نماز میں“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 733، ومالك فى (الموطأ) برقم: 453، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1242، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1657، والترمذي فى (جامعه) برقم: 373، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27084»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1242 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1242
فوائد:
➊ بڑھاپے کی وجہ سے، جس میں انسان قیام پر قادر نہ ہو، بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہے۔
➋ حالتِ قیام و قعود میں قرآن کی قرأت میں تجویدی قواعد ملحوظ رکھنا اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھنا افضل ہے، خواہ قیامِ نماز کا دورانیہ طویل تر ہو۔
➊ بڑھاپے کی وجہ سے، جس میں انسان قیام پر قادر نہ ہو، بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہے۔
➋ حالتِ قیام و قعود میں قرآن کی قرأت میں تجویدی قواعد ملحوظ رکھنا اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھنا افضل ہے، خواہ قیامِ نماز کا دورانیہ طویل تر ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1242]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1242 in Urdu
المطلب بن أبي وداعة القرشي ← حفصة بنت عمر العدوية