صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
788. (555) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما كان يكثر من التطوع جالسا وإن لم يكن به مرض بعدما أسن وحطمه الناس
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب عمر زیادہ ہو گئی اور لوگوں (کی پریشانی اور فکر) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرض کے بغیر بھی اکثر نفل نماز بیٹھ کر ادا کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 1241
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، كِلاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَتْ: نَعَمْ، بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ
جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا، جب لوگوں (کی فکروں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا تو اس کے بعد پڑھ لیتے تھے۔ جناب الدورقی کے الفاظ ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، جب لوگوں (کی پریشانیوں اور فکروں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا اور کمزور کر دیا تو اس کے بعد (آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 717، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 539، 1241، 2132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2526، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 982، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1656، وأبو داود فى (سننه) برقم: 956، 1292، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24972»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1241 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1241
فوائد:
➊ بڑھاپے اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہیں اور اس سے نماز کے اجر و ثواب میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
➋ تندرست و جوان آدمی کے لیے کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنا افضل ہے، اور کسی علت و عارض کے بغیر بیٹھ کر نوافل پڑھنے سے نماز کا نصف اجر ملتا ہے۔
➊ بڑھاپے اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہیں اور اس سے نماز کے اجر و ثواب میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
➋ تندرست و جوان آدمی کے لیے کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنا افضل ہے، اور کسی علت و عارض کے بغیر بیٹھ کر نوافل پڑھنے سے نماز کا نصف اجر ملتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1241]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1241 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق