صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
803. (570) باب الإيماء بالصلاة راكبا فى السفر
سفر میں سوار ہونے کی حالت میں نماز اشارے کے ساتھ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1269
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 أَنَّ تُصَلِّيَ أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ فِي السَّفَرِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا، يُومِئُ بِرَأْسِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 115 ] ”پس تم جدھر بھی مُنہ کرو گے وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“ کہ تم سفر میں نماز پڑھ لو، تمہاری سواری تمہیں لیکر جس طرف چاہے مُنہ کرلے۔ (لہٰذا) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ کی طرف واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے نفل نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر على الدواب/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1000، 1096، 1105، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 700، ومالك فى (الموطأ) برقم: 509، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1090، 1262، 1264، 1267، 1269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2421، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3071، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 489، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2234، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1634، 1679، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4556»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1269 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1269
فوائد:
➊ دورانِ سفر سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے اور سواری پر نوافل ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا لازم نہیں، بلکہ سواری کا رخ جس سمت ہو، اسی سمت کو منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے، خواہ سواری کا رخ قبلہ کے مخالف سمت میں ہو جائے، اس سے نماز میں نقص واقع نہیں ہوتا۔
➋ فرض نماز یا نوافل زمین پر ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا صحتِ نماز کی شرط ہے جبکہ دورانِ سفر سواری پر نوافل ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ کسی بھی سمت منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اگر کوئی شخص فرض نماز ادا کرنا چاہے گا تو وہ سواری سے اتر کر زمین پر فرض نماز ادا کرے گا۔ سواری پر فرض نماز نہیں ہوتی۔
➊ دورانِ سفر سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے اور سواری پر نوافل ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا لازم نہیں، بلکہ سواری کا رخ جس سمت ہو، اسی سمت کو منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے، خواہ سواری کا رخ قبلہ کے مخالف سمت میں ہو جائے، اس سے نماز میں نقص واقع نہیں ہوتا۔
➋ فرض نماز یا نوافل زمین پر ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا صحتِ نماز کی شرط ہے جبکہ دورانِ سفر سواری پر نوافل ادا کرنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ کسی بھی سمت منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اگر کوئی شخص فرض نماز ادا کرنا چاہے گا تو وہ سواری سے اتر کر زمین پر فرض نماز ادا کرے گا۔ سواری پر فرض نماز نہیں ہوتی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1269]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1269 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي