صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
815. (582) باب فى فضل المسجد وإن صغر المسجد وضاق
مسجد (بنانے کی) فضیلت کا بیان اگرچہ چھوٹی اور تنگ ہو
حدیث نمبر: 1292
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ يَشْرَبْ مِنْهُ كَبِدٌ حَرِيٌّ مِنْ جِنٍّ وَلا إِنْسٍ وَلا طَائِرٍ إِلا آجَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" قَالَ يُونُسُ: مِنْ سَبْعٍ وَلا طَائِرٍ، وَقَالَ: كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پانی کا کنواں کُھدوایا، جس سے جاندار جن، انسان اور پرندے پیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اُسے اجر و ثواب عطا کرے گا۔ اور جس شخص نے چڑیا کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی، تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔“ جناب یونس کے الفاظ یہ ہیں کہ ”جو درندہ یا پرندہ بھی پیئے گا ـ“ اور کہا کہ ”چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 738، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1557»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1292 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1292
فوائد:
➊ ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مساجد تعمیر کرنے کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ مسجد کے تعمیر کرنے والے کا جنت میں گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ خواہ مسجد چھوٹی اور چند نمازیوں پر مشتمل ہو، بشرطیکہ رضائے الٰہی ملحوظ اور شہرت و ریا کاری مطلوب نہ ہو، ورنہ یہی بیش قیمت عمل جزا کی بجائے سزا کا روپ دھار لے گا۔
➋ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد تعمیر کرے اس کی مثل جنت میں گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں:
(الف) مسجد تعمیر کرنے والے کا اس مسجد کی مثل جنت میں گھر تعمیر کر دیا جائے گا، لیکن جنت کے گھر کی وسعت کی فضیلت معلوم نہیں ہے کہ (یہاں فقط تشبیہ مقصود ہے) جبکہ جنت کی چیزیں ایسی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا احساس جاگزیں ہوا ہے (یعنی یہاں فقط تشبیہ مقصود ہے باقی اس کی تعمیر کا انداز، خوبصورتی و زیبائش اور حسن و عمدگی دنیا کی مسجد سے کہیں جاذب نظر، پر کشش اور عمدہ تر ہوگی۔)
(ب) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس گھر کا جنت کے محلات میں مرتبہ ویسا ہی افضل ہوگا جیسے دنیوی گھروں سے مسجد افضل ہوتی ہے۔ [شرح النووي: 14/5]
➊ ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مساجد تعمیر کرنے کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ مسجد کے تعمیر کرنے والے کا جنت میں گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ خواہ مسجد چھوٹی اور چند نمازیوں پر مشتمل ہو، بشرطیکہ رضائے الٰہی ملحوظ اور شہرت و ریا کاری مطلوب نہ ہو، ورنہ یہی بیش قیمت عمل جزا کی بجائے سزا کا روپ دھار لے گا۔
➋ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد تعمیر کرے اس کی مثل جنت میں گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں:
(الف) مسجد تعمیر کرنے والے کا اس مسجد کی مثل جنت میں گھر تعمیر کر دیا جائے گا، لیکن جنت کے گھر کی وسعت کی فضیلت معلوم نہیں ہے کہ (یہاں فقط تشبیہ مقصود ہے) جبکہ جنت کی چیزیں ایسی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا احساس جاگزیں ہوا ہے (یعنی یہاں فقط تشبیہ مقصود ہے باقی اس کی تعمیر کا انداز، خوبصورتی و زیبائش اور حسن و عمدگی دنیا کی مسجد سے کہیں جاذب نظر، پر کشش اور عمدہ تر ہوگی۔)
(ب) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس گھر کا جنت کے محلات میں مرتبہ ویسا ہی افضل ہوگا جیسے دنیوی گھروں سے مسجد افضل ہوتی ہے۔ [شرح النووي: 14/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1292]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1292 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري