صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
841. (608) بَابُ الصَّلَاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ قَبْلَ الْجُلُوسِ إِذْ هِيَ مِنْ حُقُوقِ الْمَسَاجِدِ
مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان، کیونکہ یہ نماز مساجد کے حقوق میں سے ہے
حدیث نمبر: 1325
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا بَابٌ طَوِيلٌ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الأَمْرُ أَمْرُ فَضِيلَةٍ لا أَمْرُ فَرِيضَةٍ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ خَبَرُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذَكَرَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، قَالَ الرَّجُلُ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لا، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ، فَأَعْلَمَ أَنَّ مَا سِوَى الْخَمْسِ مِنَ الصَّلَوَاتِ فَتَطَوُّعٌ لا فَرْضٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ ایک طویل باب ہے۔ میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حُکم فضیلت وثواب کے لئے ہے۔ فرض و وجوب کے لئے نہیں۔ اس کی دلیل سیدنا طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازوں کی فرضیت بیان کی تو ایک شخص نے سوال کیا، کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نہیں مگر یہ کہ تم نفل نماز پڑھو۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا کہ نماز پنجگانہ کے علاوہ نفل نمازیں ہیں، فرض نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1325، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1012، والبزار فى (مسنده) برقم: 8608، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5718، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2328، 8246»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥المطلب بن عبد الله المخزومي، أبو الحكم المطلب بن عبد الله المخزومي ← أبو هريرة الدوسي | صدوق كثير التدليس والإرسال | |
👤←👥كثير بن زيد الأسلمي، أبو محمد كثير بن زيد الأسلمي ← المطلب بن عبد الله المخزومي | صدوق يخطئ | |
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل محمد بن أبي فديك الديلي ← كثير بن زيد الأسلمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسين بن عيسى الطائي، أبو علي الحسين بن عيسى الطائي ← محمد بن أبي فديك الديلي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1325 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1325
فوائد:
➊ دو رکعت تحیة المسجد کا اہتمام مستحب فعل ہے اور باجماعِ مسلمین یہ عمل مسنون ہے، البتہ قاضی عیاض نے داود ظاہری اور ان کے اصحاب سے وجوب نقل کیا ہے۔
➋ مسجد میں دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
➌ جس وقت بھی مسجد میں داخل ہوں، مساجد میں داخل ہوتے وقت تحیة المسجد کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
◈ شافعیہ اسی مذہب کے قائل ہیں، لیکن ابو حنیفہ، اوزاعی اور لیث نے ممنوعہ اوقات میں تحیة المسجد کے اہتمام کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [شرح النووي: 220/5]
➊ دو رکعت تحیة المسجد کا اہتمام مستحب فعل ہے اور باجماعِ مسلمین یہ عمل مسنون ہے، البتہ قاضی عیاض نے داود ظاہری اور ان کے اصحاب سے وجوب نقل کیا ہے۔
➋ مسجد میں دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
➌ جس وقت بھی مسجد میں داخل ہوں، مساجد میں داخل ہوتے وقت تحیة المسجد کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
◈ شافعیہ اسی مذہب کے قائل ہیں، لیکن ابو حنیفہ، اوزاعی اور لیث نے ممنوعہ اوقات میں تحیة المسجد کے اہتمام کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [شرح النووي: 220/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1325 in Urdu
المطلب بن عبد الله المخزومي ← أبو هريرة الدوسي