صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
853. (620) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ كَرَاهَةَ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي غَيْرِ مَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ أَنْ يُنَاظِرَ فِيهِ، يَسْمُرُ فِيهِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ عشاء کے بعد گفتگو کے لئے جاگنے کی ممانعت اُن کاموں کی وجہ سے ہے جو انسان کے لئے ضروری نہ ہوں، مسلمانوں کے مسائل میں مشورہ وغیرہ کے لئے جاگا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 1341
نَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا الأَعْمَشُ ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهَرِ قَلْبِهِ، فَغَضِبَ عُمَرُ ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَاكَ فِي الأَمْرِ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ"
جناب ابراہیم اور علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ میدان عرفات میں کھڑے تھے، اُس نے کہا کہ اے امیر المؤمنین، میں کوفہ سے آیا ہو ں اور میں وہاں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آیا ہوں جو قرآن مجید کو زبانی لکھواتا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر مسلمانوں کے مسائل وامور میں رات کے وقت مشورہ کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى المسجد غير الصلاة وذكر الله/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1156، 1341، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2034، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2911، والترمذي فى (جامعه) برقم: 169، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2163، وأحمد فى (مسنده) برقم: 37، 177»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1341 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عمر بن الخطاب العدوي