صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. (103) باب فضل السواك وتطهير الفم به
مسواک کی فضیلت اور اس سے منہ صاف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 135
نا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْهَاشِمِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک مُنہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رضا (کے حصول) کا ذریعہ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5687، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 135، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1067، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4، والدارمي فى (مسنده) برقم: 711، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3449، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24840»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 135 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 135
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ مسواک کرنا مشروع فعل ہے اس لیے کہ یہ منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رضا کے حصول کا باعث ہے۔
➋ مسواک کا مطلق بیان اور کسی معین وقت کی عدم تخصیص سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسواک علی الاطلاق مشروع ہے۔
➌ مسواک سنت مؤکدہ ہے اور کسی بھی حال میں واجب نہیں ہے۔ [نیل الأوطار: 115/1]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ مسواک کرنا مشروع فعل ہے اس لیے کہ یہ منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رضا کے حصول کا باعث ہے۔
➋ مسواک کا مطلق بیان اور کسی معین وقت کی عدم تخصیص سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسواک علی الاطلاق مشروع ہے۔
➌ مسواک سنت مؤکدہ ہے اور کسی بھی حال میں واجب نہیں ہے۔ [نیل الأوطار: 115/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 135]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 135 in Urdu
عبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق