صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. (104) باب استحباب التسوك عند القيام من النوم للتهجد
تہجد کے لیے نیند سے بیدار ہوکر مسواک کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 136
نا أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ ، نا عَنْزٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، نا حُصَيْنٌ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ هَارُونُ: عَنْ حُصَيْنٍ. ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، وَالأَعْمَشِ . ح وَنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا وَكِيعٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، كُلِّهِمْ عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِلتَّهَجُّدِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ، لَمْ يَقُلْ أَبُو مُوسَى، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لِلتَّهَجُّدِ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجّد کے لیے جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے مُنہ کو مسواک سے خوب صاف کرتے۔ یہ ہارون بن اسحاق کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابو موسٰی اور سعید بن عبدالرحمان نے «للتھجّد» ”تہجد کے لیے“ نہیں بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 245، 889، 1136، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 255، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 136، 1149، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1072، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2، وأبو داود فى (سننه) برقم: 55، والدارمي فى (مسنده) برقم: 712، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 286، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 164، 165، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23714»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 136 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 136
فوائد:
◈ ابن دقیق العید کا قول ہے کہ رات سے بیداری کے وقت مسواک کرنا مستحب عمل ہے کیونکہ نیند کی حالت میں معدہ سے اٹھنے والے بخارات کی وجہ سے منہ کا ذائقہ متغیر ہو جاتا ہے اور مسواک صفائی کا آلہ ہے۔
لہذا نیند کے آخر پر مسواک کرنا مستحب ہے۔ [فتح الباري: 463/1]
◈ ابن دقیق العید کا قول ہے کہ رات سے بیداری کے وقت مسواک کرنا مستحب عمل ہے کیونکہ نیند کی حالت میں معدہ سے اٹھنے والے بخارات کی وجہ سے منہ کا ذائقہ متغیر ہو جاتا ہے اور مسواک صفائی کا آلہ ہے۔
لہذا نیند کے آخر پر مسواک کرنا مستحب ہے۔ [فتح الباري: 463/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 136]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 136 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي