صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
914. (681) باب استحباب الفطر يوم الفطر على وتر من التمر
عیدالفطر والے دن طاق عدد میں کھجوروں کے ساتھ ناشتہ کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1429
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، نَا الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لا يَخْرُجُ يَوْمُ الْفِطْرَ حَتَّى يَأْكُلُ تَمَرَاتٍ، وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر والے دن چند کھجوریں کھائے بغیر (عید گاہ کی طرف) نہیں نکلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 953، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1428، 1429، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2813، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1093، والترمذي فى (جامعه) برقم: 543، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6237، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1717، 1718، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12462»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1429 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1429
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ عید الفطر کے دن نمازِ عید سے قبل طاق کھجوریں کھانا مستحب فعل ہے۔
➋ اگر کھجوریں میسر نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز بھی کھائی جا سکتی ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ عید الفطر کے دن نمازِ عید سے قبل طاق کھجوریں کھانا مستحب فعل ہے۔
➋ اگر کھجوریں میسر نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز بھی کھائی جا سکتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1429 in Urdu
عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري