صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
915. (682) باب الخروج إلى المصلى لصلاة العيدين،
نماز عیدین کے لئے عید گاہ کی طرف جانے کا بیان
حدیث نمبر: Q1430
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْعِيدَيْنِ تُصَلَّى فِي الْمُصَلَّى لَا فِي الْمَسَاجِدِ، إِذَا أَمْكَنَ الْخُرُوجُ إِلَى الْمُصَلَّى
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب عید گاہ کی طرف جانا ممکن ہو تو نماز عیدین عیدگاہ ہی میں ادا کی جائے گی، مساجد میں ادا نہیں کی جائے گی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: Q1430]
حدیث نمبر: 1430
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، صحابہ کرام کو نمازعید پڑھائی، پھر واپس تشریف لے آئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 49، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1497، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1430 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1430
فوائد:
نماز عید کے لیے عید گاہ جانا مسنون ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عید پر خواتین و حضرات کو نماز عید کے لیے عید گاہ جانے کا حکم بھی دیا ہے۔
البتہ کسی عذر کی صورت میں مسجد وغیرہ میں نماز پڑھنے کی رخصت ہے۔
اس بارے میں وارد احادیث تو ضعیف ہیں، لیکن اصول فقہ «الضرورات تبيح المحظورات» (ضروریات ممنوع کاموں کو مباح کرتی ہیں) کی رو سے نماز عید ادا کرنے کی گنجائش بہر صورت موجود ہے۔
نماز عید کے لیے عید گاہ جانا مسنون ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عید پر خواتین و حضرات کو نماز عید کے لیے عید گاہ جانے کا حکم بھی دیا ہے۔
البتہ کسی عذر کی صورت میں مسجد وغیرہ میں نماز پڑھنے کی رخصت ہے۔
اس بارے میں وارد احادیث تو ضعیف ہیں، لیکن اصول فقہ «الضرورات تبيح المحظورات» (ضروریات ممنوع کاموں کو مباح کرتی ہیں) کی رو سے نماز عید ادا کرنے کی گنجائش بہر صورت موجود ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1430]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1430 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري