صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
939. (706) باب الرخصة للخاطب فى قطع الخطبة للحاجة تبدو له
خطیب کے لئے بوقت ضرورت خطبہ روکنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 1456
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو ثُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ، إِنِّي رَأَيْتُ هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ وَحَمَلْتُهُمَا"، ثناهُ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، وَقَالَ:" فَلَمْ أَصْبِرْ"، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں کہ اس دوران جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما چلتے اور گرتے ہوئے (مسجد میں) آئے۔ اُن دونوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اُترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو اُٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ سورة الأنفال: 28 ] ”بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا باعث ہے۔“ بیشک میں نے ان دو بچّوں کو چلتے ہوئے گرتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا حتّیٰ کہ میں نے نیچے اُتر کر انہیں اُٹھالیا۔ زید بن حباب کے واسطے سے جناب حسین کی روایت میں ہے، ”تو میں صبر نہ کرسکا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ دوبارہ شروع کر دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1456، 1801، 1802، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6038، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1063، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1412، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1109، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3774، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3600، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5900، 12042، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23461»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1456 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1456
فوائد:
➊ حاجت کے تحت خطبہ منقطع کرنا جائز و مباح ہے۔
➋ اولاد اور مال فتنہ ہیں جو شرعی اعمال میں کوتاہی کا باعث بنتے ہیں، لیکن یہاں یہ مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اگر اولاد وغیرہ سے محبت میں کچھ کمی کوتاہی ہو جائے تو وہ قابلِ مواخذہ نہیں۔
➌ سرخ لباس زیب تن کرنا جائز ہے۔
➊ حاجت کے تحت خطبہ منقطع کرنا جائز و مباح ہے۔
➋ اولاد اور مال فتنہ ہیں جو شرعی اعمال میں کوتاہی کا باعث بنتے ہیں، لیکن یہاں یہ مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اگر اولاد وغیرہ سے محبت میں کچھ کمی کوتاہی ہو جائے تو وہ قابلِ مواخذہ نہیں۔
➌ سرخ لباس زیب تن کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1456]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1456 in Urdu
زيد بن الحباب التميمي ← الحسين بن واقد المروزي