یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
940. (707) باب إباحة قطع الخطبة ليعلم بعض الرعية
خطبہ روک کر بعض رعایا کو تعلیم دینا جائز ہے
حدیث نمبر: 1457
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ ، قَالَ:" جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: رَجُلٌ جَاهِلٌ عَنْ دِينٍ، لا يَدْرِي مَا دِينُهُ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ وَتَرَكَ الْخُطْبَةَ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ قَائِمًا"
سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رھے تھے۔ تو میں نے عرض کی کہ (میں) ایک دین سے نا واقف شخص ہوں، جسے معلوم نہیں کہ اُس کا دین کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا۔ پھر ایک کرسی لائی گئی۔ جس کے پائے لوہے سے خالی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس علم سے مجھے سکھانا شروع کیا جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر (بقیہ) خطبہ ارشاد فرمایا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 876، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1457، 1800، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1059، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5392، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5898، 5899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21084»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1457 in Urdu
حميد بن هلال العدوي ← أبو رفاعة العدوى