یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
941. (708) باب انتظار القوم الإمام جلوسا فى العيدين بعد فراغه من الخطبة ليعظ النساء ويذكرهن
نماز عیدین میں خطبے سے فارغ ہوکر لوگوں کا بیٹھ کر امام کا انتظار کرنا تاکہ وہ عورتوں کو وعظ و نصحیت کرلے
حدیث نمبر: 1458
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ:، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " شَهِدْتُ صَلاةَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلالٌ، فَقَرَأَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12، حَتَّى خَتَمَ الآيَةَ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ: أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ: لَمْ تُجِبْهُ غَيْرُهَا لا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ، قَالَ: فَبَسَطَ بِلالٌ ثَوْبَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فِدًى لَكُنَّ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلالٍ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید الفطر کی نمازیں پڑھی ہیں، یہ تمام صحابہ کرام نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔ (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ مردوں کو اپنے ہاتھ کے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ فرما رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ» [ سورة الممتحنة: 12 ] ”اے نبی، جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں بیعت کے لئے حاضر ہوں۔“ آخر آیت تک تلاوت فرمائی۔ تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسی بات پر (قائم) ہو؟ صرف ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں جی، جناب حسن کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ عورت کون تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو خیرات کرو۔“ چناچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ اپنا صد قہ لاؤ۔ پس عورتوں نے اپنے زیورات اور انگوٹھیاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنا شروع کر دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 98، 863، 960، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 884، وابن الجارود فى "المنتقى"، 285، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1436، 1437، 1458، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1568، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1142، والترمذي فى (جامعه) برقم: 537، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1273، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6250، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1927»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1458 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي