صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
946. (713) باب الرخصة لبعض الرعية فى التخلف عن الجمعة إذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم واحد،
جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہوجائیں تو بعض لوگوں کو جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان،
حدیث نمبر: Q1464
إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ إِيَاسَ بْنَ أَبِي رَمْلَةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
بشرطیکہ حدیث صحیح ہو، کیونکہ مجھے ایاس بن ابی رملہ کی جرح اور تعدیل کا علم نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: Q1464]
حدیث نمبر: 1464
نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ مُعَاوِيَةَ ، وَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى الْعِيدَ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْمَعَ فَلْيَجْمَعْ"
جناب ایاس بن ابی رملہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے پاس حاضر تھے تو اُنہوں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی دن میں دو عیدوں (عید اور جمعہ) میں شریک ہوئے ہو؟ اُنہوں نے فرمایا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے شروع میں عید کی نماز پڑھائی پھر آپ نے نماز جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1464، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1067، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1590، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1070، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1310، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6376، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19626»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1464 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1464
فوائد:
➊ اگر عید جمعہ کے روز آئے تو سامعین کو جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔
➋ اور جمعہ چھوڑنے کی صورت میں سامعین گناہگار نہیں ہوں گے، البتہ جمعہ چھوڑنے کی صورت میں نمازِ ظہر پڑھنا لازم ہے۔
➊ اگر عید جمعہ کے روز آئے تو سامعین کو جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔
➋ اور جمعہ چھوڑنے کی صورت میں سامعین گناہگار نہیں ہوں گے، البتہ جمعہ چھوڑنے کی صورت میں نمازِ ظہر پڑھنا لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1464]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1464 in Urdu
معاوية بن أبي سفيان الأموي ← زيد بن أرقم الأنصاري