صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
947. (714) باب الرخصة للإمام إذا اجتمع العيدان والجمعة أن يعيد بهم ولا يجمع بهم،
جب عید اور جمعہ جمع ہوجائیں تو امام کو رخصت ہے کہ وہ لوگوں کو عید پڑھا دے اور جمعہ نہ پڑھائے،
حدیث نمبر: Q1465
إِنْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ أَصَابَ ابْنُ الزُّبَيْرِ السُّنَّةَ، سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
پشرطیکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اپنے اس فرمان ”ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے سنّت کو پالیا ہے“ سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: Q1465]
حدیث نمبر: 1465
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ح، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَهُوَ أَمِيرٌ فَوَافَقَ يَوْمُ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَخَرَجَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَ وَأَطَالَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ الْجُمُعَةَ فَعَابَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ابْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَصَابَ ابْنُ الزُّبَيْرِ السُّنَّةَ ، وَبَلَغَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ إِذَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا"، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَابَ ابْنُ الزُّبَيْرِ السُّنَّةَ، يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ سُنَّةَ أَبِي بَكْرٍ، أَوْ عُمَرَ، أَوْ عُثْمَانَ، أَوْ عَلِيٍّ، وَلا أَخَالُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَصَابَ السُّنَّةَ فِي تَقْدِيمِهِ الْخُطْبَةَ قَبْلَ صَلاةِ الْعِيدِ، لأَنَّ هَذَا الْفِعْلَ خِلافُ سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ تَرْكَهُ أَنْ يَجْمَعَ بِهِمْ بَعْدَمَا قَدْ صَلَّى بِهِمْ صَلاةَ الْعِيدِ فَقَطْ دُونَ تَقْدِيمِ الْخُطْبَةِ قَبْلَ صَلاةِ الْعِيدِ
حضرت وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکّہ مکرّمہ میں حاضر تھا جب وہ امیر تھے تو عید الفطر یا عید الاضحیٰ جمعہ کے دن آگئئ تو اُنہوں نے (عید کے لئے) نکلنے میں تاخیر کی حتّیٰ کہ دن چڑھ گیا، پھر وہ باہر نکلے اور منبر پر تشریف فرما ہوکر بڑاطویل خطبہ دیا۔ پھر اُنہوں نے دو رکعات پڑھائیں اور نماز جمعہ نہیں پڑھائی، پس بنی امیہ بن عبد شمس کے کچھ لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا اور اُن پر عیب لگایا، سیدنا ابن عبا س رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنّت کو پالیا ہے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ جب دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہو جاتیں تو وہ اسی طرح کرتے تھے۔ یہ جناب احمد بن عبدہ کی حدیث ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فر ماتے ہیں کہ ”سیدنا ابن عبا س رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنّت کو پالیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اُنہوں نے سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اُن کی مردایہ ہو کہ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان یا علی رضی اللہ عنہم کے طریقے کو اُنہوں نے پالیا ہے۔ اور میرا خیال نہیں کہ نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کو اُنہوں نے سنّت کو پا لیا، قرار دیا ہو کیونکہ یہ کام سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے طریقے کے خلاف ہے۔ بلکہ ان کی مراد صرف جمعہ نہ پڑھانا تھا۔ جبکہ اُنہوں نے لوگوں کو نماز عید پڑھا دی تھی۔ اُن کی مراد نماز عید سے پہلے خطبہ دینا نہ تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1465، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1101، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1591، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1807، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 5886، 5891»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1465 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1465
فوائد:
➊ اگر عید اور جمعہ ایک دن واقع ہوں تو نماز جمعہ کو ترک کرنے اور امام کو جمعہ منعقد نہ کرنے کی رخصت ہے، روز عید جمعہ کا انعقاد لازم نہیں۔
➋ نماز جمعہ ترک کرنے کی صورت میں نماز ظہر کا اہتمام لازم ہے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے جمعہ کا اہتمام نہ کرنے سے اس بات کی نفی نہیں ہوئی کہ انہوں نے نماز ظہر گھر پر ادا نہ کی ہو۔
➊ اگر عید اور جمعہ ایک دن واقع ہوں تو نماز جمعہ کو ترک کرنے اور امام کو جمعہ منعقد نہ کرنے کی رخصت ہے، روز عید جمعہ کا انعقاد لازم نہیں۔
➋ نماز جمعہ ترک کرنے کی صورت میں نماز ظہر کا اہتمام لازم ہے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے جمعہ کا اہتمام نہ کرنے سے اس بات کی نفی نہیں ہوئی کہ انہوں نے نماز ظہر گھر پر ادا نہ کی ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1465]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1465 in Urdu
وهب بن كيسان القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي