صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
965. (14) باب الرخصة للمريض فى ترك شهود الجماعة
بیمار شخص کے لئے نماز با جماعت ادانہ کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 1488
نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلَّى بِالنَّاسِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْهُ، حَيْثُ وَضَحَ لَنَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَقَدَّمْ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نُوَصَّلْ إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ أَنَّ الإِشَارَةَ الْمَفْهُومَةَ مِنَ النَّاطِقِ قَدْ تَقُومُ مَقَامَ الْمَنْطِقِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْهَمَ الصِّدِّيقَ بِالإِشَارَةِ إِلَيْهِ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِالإِمَامَةِ فَاكْتَفَى بِالإِشَارَةِ إِلَيْهِ عِنْدَ النُّطْقِ بِأَمْرِهِ بِالإِقَامَةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین روز تک (نماز پڑھانے کے لئے) ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے (اسی دوران میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے نظر آنے والے منظر سے زیادہ پسند یدہ منظر ہم نے نہیں دیکھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھو (اور نماز پڑھاؤ) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکایا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے۔ امام ابوبکر رحمه االله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ سمجھا جانے والا اشارہ کبھی کلام کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اشارے سے سمجھا دیا کہ آپ انہیں امامت کرانے کا حُکم دے رہے ہیں۔ لہٰذ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بول کر نماز پڑھانے کا حُکم دینے کی بجائے صر ف اشارے کو کافی سمجھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 680، 681، 754، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 419، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 867، 1488، 1650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2065، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1830، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1624، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12255، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1222»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1488 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1488
فوائد:
➊ شدید مرض کی وجہ سے نماز باجماعت ترک کرنا اور گھر پر نماز پڑھنا جائز ہے۔
➋ خارج از نماز کا نماز میں مشغول شخص کی طرف اشارہ کرنا جائز ہے۔
➊ شدید مرض کی وجہ سے نماز باجماعت ترک کرنا اور گھر پر نماز پڑھنا جائز ہے۔
➋ خارج از نماز کا نماز میں مشغول شخص کی طرف اشارہ کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1488]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1488 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري