صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. ( 115) باب الأمر بالاستنشاق عند الاستيقاظ من النوم، وذكر العلة التى من أجلها أمر به
نیند سے بیدار ہوکر ناک صاف کرنے کے حکم اور اس علت کا بیان جس کی وجہ سے حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 149
نا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْهَادِ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہوکر وضو کرے تو اُسے چاہیے کہ تین بار ناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے نتھنوں میں رات گزارتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3295، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 238، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 149، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 96، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 226، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8742»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 149 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 149
فوائد:
وضو میں ناک جھاڑنا فرائضِ وضو میں شامل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ وضو ناک جھاڑنے کا حکم دیا ہے۔
کم از کم ایک مرتبہ ناک جھاڑنا فرض اور زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ ناک جھاڑنا مسنون و مستحب عمل ہے۔
لیکن اسی حدیث کی رو سے رات کی نیند سے بیداری کے بعد وضو کرتے وقت تین مرتبہ ناک جھاڑنا لازم ہے۔
نیز اس عمل سے انسان شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔
وضو میں ناک جھاڑنا فرائضِ وضو میں شامل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ وضو ناک جھاڑنے کا حکم دیا ہے۔
کم از کم ایک مرتبہ ناک جھاڑنا فرض اور زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ ناک جھاڑنا مسنون و مستحب عمل ہے۔
لیکن اسی حدیث کی رو سے رات کی نیند سے بیداری کے بعد وضو کرتے وقت تین مرتبہ ناک جھاڑنا لازم ہے۔
نیز اس عمل سے انسان شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 149]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 149 in Urdu
عيسى بن طلحة القرشي ← أبو هريرة الدوسي