الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. ( 116) باب الأمر بالمبالغة فى الاستنشاق إذا كان المتوضئ مفطرا غير صائم
وضو کرنے والا اگر روزے دار نہ ہو تو وضو کرتے ہوئے ناک میں خوب اچھی طرح اس کو پانی چڑھانا چاہئے
حدیث نمبر: 150
نا الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ سِنَانٍ الْمَدَائِنِيُّ ، وَرِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، وَالْجَمَاعَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الأَصَابِعَ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ، إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"
حضرت لقیط بن صبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کے متعلق بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”مکمّل وضو کرو، اُنگلیوں کا خلال کرو، اور اگر روزے کی حالت میں نہ ہو تو ناک میں خوب اچھی طرح پانی چڑھاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
عاصم بن أبي رزين العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي