صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. ( 114) باب إباحة المضمضة والاستنشاق من غرفة واحدة، والوضوء مرة مرة
ایک ہی چُلّو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز ہے اور اعضائے وضو ایک ایک مرتبہ دھونا جائز ہے
حدیث نمبر: 148
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، نا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ، فَغَرَفَ غَرْفَةً، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَبَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَظَاهِرَهُمَا، وَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِيهِمَا، وَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَغَرَفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چُلّو پانی لیا (اور اُس سے) کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر ایک چُلّو لیا تو اُس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا، پھر ایک چُلّو لیا تو اُس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا، ایک اور چُلّو لیا تو اپنا بایاں ہاتھ دھویا، اور ایک اور چُلّو لیا تو سر کا مسح کیا اور اپنے کانوں کے اندرونی اوربیرونی حصّےکا مسح کیا اور اپنی اُنگلیاں اُن میں داخل کیں پھر ایک چُلّو لے کراپنا دایاں پاؤں دھویا اور ایک اور چُلّو سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 140، 157، وابن الجارود فى "المنتقى"، 76، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 148، 171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1076، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 80، وأبو داود فى (سننه) برقم: 133، 137، 138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 36، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 403، 411، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 231،وأحمد فى (مسنده) برقم: 1914»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 148 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 148
فوائد:
➊ وضو کرتے وقت ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا افضل عمل ہے۔ اکثر روایات اس عمل کی تائید کرتی ہیں۔
➋ تمام اعضائے وضو کو کم از کم ایک ایک مرتبہ دھونا فرض ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعضائے وضو کو دھونے کی حد تین مرتبہ ہے۔
➊ وضو کرتے وقت ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا افضل عمل ہے۔ اکثر روایات اس عمل کی تائید کرتی ہیں۔
➋ تمام اعضائے وضو کو کم از کم ایک ایک مرتبہ دھونا فرض ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعضائے وضو کو دھونے کی حد تین مرتبہ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 148]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 148 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي