صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
980. (29) باب الزجر عن الخروج من المسجد بعد الأذان، وقبل الصلاة.
اذان ہونے کے بعد اور نماز پڑھنے سے پہلے مسجد سے نکلنا منع ہے
حدیث نمبر: 1506
نا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَخَرَجَ، فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . وَقَالَ بُنْدَارٌ:" فَقَدْ خَالَفَ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
ابوشعثاء محاربی سے روایت ہے، وہ فر ماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے، مؤذن نے اذان کہی تو ایک شخص اٹھ کر باہر چلا گیا، اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ بندار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم (کے حکم) کی مخالفت کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 655، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1506، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2062، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 536، والترمذي فى (جامعه) برقم: 204، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1241، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 733، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5015، 5016، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9439»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1506 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1506
فوائد:
➊ اذان کے بعد فرض نماز ادا کرنے سے پہلے بلا عذر مسجد سے نکلنا مکروہ ہے۔ [شرح النووي: 157/5]
➊ اذان کے بعد فرض نماز ادا کرنے سے پہلے بلا عذر مسجد سے نکلنا مکروہ ہے۔ [شرح النووي: 157/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1506]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1506 in Urdu
سليم بن أسود المحاربي ← أبو هريرة الدوسي