صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
981. (30) باب ذكر أحق الناس بالإمامة.
لوگوں میں امامت کے زیادہ حق دار شخص کا بیان
حدیث نمبر: 1508
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٍ ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانُوا ثَلاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ" . نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک انہیں امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو قرآن کو زیادہ پڑھنے اور جاننے والا ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 672، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1508، 1701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2132، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 781، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2608، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5206، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11360»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1508 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1508
فوائد:
ان احادیث میں امامت کے زیادہ مستحقین کا بیان ہے کہ:
➊ اولاً: قرآن کا زیادہ حافظ اور اچھی قراءت کا حامل امامت کا زیادہ حقدار ہے۔
➋ ثانیاً: اگر قراءت میں کئی لوگ برابر ہوں تو ان میں سے (قاری قرآن کے بعد) سنت کا بڑا عالم امامت کا زیادہ مستحق ہے۔
➌ ثالثاً: اگر قراءت وسنت کے علم میں کئی افراد یکساں حیثیت کے حامل ہوں تو ہجرت میں مقدم شخص افضل ہے۔
➍ رابعاًً: اگر گزشتہ اوصاف میں کئی لوگ مشترک ہوں تو ان میں سے بڑی عمر کا انسان امامت کا زیادہ حق دار ہے۔
یہ امامت کے انتخاب کی بہترین صورت ہے۔ پھر اس قاعدہ و قانون کو ملحوظ رکھے بغیر جو بھی صحیح العقیدہ امام مقرر کیا جائے اس کی اقتداء لازم ہے۔
ان احادیث میں امامت کے زیادہ مستحقین کا بیان ہے کہ:
➊ اولاً: قرآن کا زیادہ حافظ اور اچھی قراءت کا حامل امامت کا زیادہ حقدار ہے۔
➋ ثانیاً: اگر قراءت میں کئی لوگ برابر ہوں تو ان میں سے (قاری قرآن کے بعد) سنت کا بڑا عالم امامت کا زیادہ مستحق ہے۔
➌ ثالثاً: اگر قراءت وسنت کے علم میں کئی افراد یکساں حیثیت کے حامل ہوں تو ہجرت میں مقدم شخص افضل ہے۔
➍ رابعاًً: اگر گزشتہ اوصاف میں کئی لوگ مشترک ہوں تو ان میں سے بڑی عمر کا انسان امامت کا زیادہ حق دار ہے۔
یہ امامت کے انتخاب کی بہترین صورت ہے۔ پھر اس قاعدہ و قانون کو ملحوظ رکھے بغیر جو بھی صحیح العقیدہ امام مقرر کیا جائے اس کی اقتداء لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1508]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1508 in Urdu
محمد بن يحيى الذهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي