صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. ( 118) بَابُ اسْتِحْبَابِ صَكِّ الْوَجْهِ بِالْمَاءِ عِنْدَ غَسْلِ الْوَجْهِ.
چہرہ دھوتے وقت چہرے کو پانی سے اچھی طرح ملنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 153
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيَّ بَيْتِي، وَقَدْ بَالَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَاهُ بِقُعبْ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" فَوَضَعَ لَهُ إِنَاءً فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ يَعْنِي الْمَاءَ فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ" . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس میرے گھر تثر یف لا ئے، اوروہ پیشاب کر چکے تھے، تو اُنہوں نے پا نی منگوایا، ہم آپ کے پاس ایک بڑا پیالہ لیکر آئے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی سماتا ہے۔ وہ آپ کے سامنے رکھا گیا پھر فرمایا کہ اے ابن عباس، کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ کروں؟ میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ضرور کیجیے۔ کہتے ہیں کہ آپ کے لیے (وضو کرنے والا) برتن رکھا گیا تو اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اُسے جھاڑا، پھر اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لیکر اُس کے ساتھ اپنا چہرہ خوب ملا۔ اور باقی حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1080، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 609، وأبو داود فى (سننه) برقم: 117، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 245، 350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 635»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 153 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 153
فوائد:
➊ وضو کرتے وقت منہ پر زور سے پانی پھینکنا درست ہے، مسنون عمل ہے اور اس میں کسی قسم کی قباحت اور کراہت نہیں ہے۔
➋ تاہم اگر آس پاس دیگر لوگ بھی وضو کر رہے ہوں تو اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ ان پر پانی کے چھینٹے نہ پڑیں۔
➊ وضو کرتے وقت منہ پر زور سے پانی پھینکنا درست ہے، مسنون عمل ہے اور اس میں کسی قسم کی قباحت اور کراہت نہیں ہے۔
➋ تاہم اگر آس پاس دیگر لوگ بھی وضو کر رہے ہوں تو اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ ان پر پانی کے چھینٹے نہ پڑیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 153]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 153 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي