صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. ( 119) بَابُ اسْتِحْبَابِ تَجْدِيدِ حَمْلِ الْمَاءِ لِمَسْحِ الرَّأْسِ غَيْرِ فَضْلِ بَلَلِ الْيَدَيْنِ.
سر کے مسح کے لیے دونوں ہاتھوں سے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نیا پانی لینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 154
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ ، يَذْكُرُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا، وَالأُخْرَى ثَلاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا"
سیدنا عبدالله بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول الله صل اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کُلّی کی پھر ناک جھاڑا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنا دایاں ہاتھ تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار دھویا اور اپنے ہاتھ سے بچے ہوئے پانی کے علاوہ (نئے پانی) سے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے حتیٰ کہ اُنہیں اچھی طرح سے صاف کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 236، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 35، والدارمي فى (مسنده) برقم: 736، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16703»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 154 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 154
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا۔
ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہیں کیا۔
نیز اس حدیث سے یہ استدلال درست نہیں کہ وضو کے لیے مستعمل پانی سے پاکی حاصل کرنا درست نہیں، کیونکہ اس حدیث میں سر کے لیے نیا پانی لینے کا بیان ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینا شرط ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 124/3]
➋ ◈ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ راجح مسئلہ یہ ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔ [تحفة الأحوذي: 103/1]
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا۔
ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہیں کیا۔
نیز اس حدیث سے یہ استدلال درست نہیں کہ وضو کے لیے مستعمل پانی سے پاکی حاصل کرنا درست نہیں، کیونکہ اس حدیث میں سر کے لیے نیا پانی لینے کا بیان ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینا شرط ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 124/3]
➋ ◈ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ راجح مسئلہ یہ ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔ [تحفة الأحوذي: 103/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 154]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 154 in Urdu
واسع بن حبان الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري