صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. ( 124) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَعْبَيْنِ اللَّذَيْنِ أُمِرَ الْمُتَوَضِّئُ بِغَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَيْهِمَا الْعَظْمَانِ النَّاتِئَانِ فِي جَانِبَيِ الْقَدَمِ لَا الْعَظْمُ الصَّغِيرُ النَّاتِئُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ، عَلَى مَا يَتَوَهَّمُهُ مَنْ يَتَحَذْلَقُ مِمَّنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا لُغَةَ الْعَرَبِ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ دونوں ٹخنے جہاں تک وضو کرنے والے کو پاؤں دھونے کا حکم دیا گیا ہے وہ قدم کے دونوں جانب ابھری ہوئی دوہڈیاں ہیں۔ قدم کے اوپر ابھری ہوئی چھوٹی ہڈی مراد نہیں ہے جیسا کہ بعض کم فہم اور عرب لغت نہ جاننے والے شیخی خوروں کو وہم ہوا ہے
حدیث نمبر: Q158
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ حَدِيثَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَخَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي مَسْحِ الْأُذُنَيْنِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا.
حدیث نمبر: 158
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا يَوْمًا وَضُوءًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، وَالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْكَعْبَيْنِ هُمَا الْعَظْمَانِ النَّاتِئَانِ فِي جَانِبَيِ الْقَدَمِ، إِذْ لَوْ كَانَ الْعَظْمُ النَّاتِئُ عَلَى ظَهَرِ الْقَدَمِ، لَكَانَ لِلرِّجْلِ الْيُمْنَى كَعْبٌ وَاحِدٌ لا كَعْبَانِ
حضرت حمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، پھر اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کے متعلق حدیث بیان کی، اور فرمایا کہ پھر آپ نے دایاں پاؤں دونوں ٹخنوں تک تین بار دھویا، اور بایاں پاؤں بھی اسی طرح دھویا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ٹخنے قدم کے دونوں جانب اُبھری ہوئی دو ہڈیاں ہیں کیونکہ اگر ٹخنے سے مراد قدم کے اوپر اُبھری ہوئی ہڈی ہوتی تو دائیں پاؤں کا ایک ہی ٹخنہ ہوتا، دو نہ ہوتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، 192، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47،ابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 119، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694، والحميدي فى (مسنده) برقم: 421»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 158 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 158
فوائد:
➊ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ”کعبین“ سے مراد پنڈلی اور پاؤں کے درمیان ابھری ہوئی ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں اور ہر پاؤں میں دو ابھری ہڈیاں ہوتی ہیں۔
لیکن رافضیوں نے اس مسئلہ میں شذوذ اختیار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ ہر پاؤں میں ایک کعب یعنی پاؤں کی پشت کی ہڈی ہے۔
◈ محمد بن حسن رحمہ اللہ سے بھی یہ قول منقول ہے، لیکن ان سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اول الذکر علماء کی دلیل یہ ہے کہ اہل لغت و اشتقاق نے کعبین سے ٹخنے کی دو ابھری ہڈیاں مراد لی ہیں اور مذکورہ صحیح حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قدم کی دو ابھری ہڈیاں ثابت کی ہیں۔
➊ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ”کعبین“ سے مراد پنڈلی اور پاؤں کے درمیان ابھری ہوئی ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں اور ہر پاؤں میں دو ابھری ہڈیاں ہوتی ہیں۔
لیکن رافضیوں نے اس مسئلہ میں شذوذ اختیار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ ہر پاؤں میں ایک کعب یعنی پاؤں کی پشت کی ہڈی ہے۔
◈ محمد بن حسن رحمہ اللہ سے بھی یہ قول منقول ہے، لیکن ان سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اول الذکر علماء کی دلیل یہ ہے کہ اہل لغت و اشتقاق نے کعبین سے ٹخنے کی دو ابھری ہڈیاں مراد لی ہیں اور مذکورہ صحیح حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قدم کی دو ابھری ہڈیاں ثابت کی ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 158]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 158 in Urdu
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان