صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. ( 127) باب ذكر الدليل على أن المسح على القدمين غير جائز، لا كما زعمت الروافض، والخوارج.
رافضیوں اور خارجیوں کے دعوے کے برعکس اس بات کی دلیل کا بیان کہ قدموں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 164
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَصْبُغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ ، نا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ، وَتَرَكَ عَلَى ظَهَرِ قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ" . نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، بِمِثْلِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص وضو کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے اپنے قدم کے بالائی حصّے پر ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑ دی تھی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”واپس جاؤ اور اپنا وضواچھی طرح کرو۔“ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں احمد بن عبدالرحمان بن وہب نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں میرے چچا نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
أحمد بن عبد الرحمن القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي