صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1087. (136) باب ذكر الدليل على أن الصلاة الأولى التى يصليها المرء فى وقتها تكون فريضة،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ پہلی نماز جسے نمازی اس کے وقت پر پڑھے گا وہ فرض ہوگی
حدیث نمبر: Q1640
وَالثَّانِيَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا جَمَاعَةً مَعَ الْإِمَامِ تَكُونُ تَطَوُّعًا، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الثَّانِيَةَ تَكُونُ فَرِيضَةً، وَالْأُولَى نَافِلَةً، مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْإِمَامَ إِذَا أَخَّرَ الْعَصْرَ فَعَلَى الْمَرْءِ أَنْ يُصَلِّيَ الْعَصْرَ فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ يَنْتَفِلُ مَعَ الْإِمَامِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، نَهْيٌ خَاصٌّ لَا نَهْيٌ عَامٌّ
حدیث نمبر: 1640
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ، فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لَلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ، وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے - لہٰذا اگر تم اُن لوگوں کو پا لو تو تم اپنے گھروں میں معروف وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اُن لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لینا اور اُسے نفل بنا لینا ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 365، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1640، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1481، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 778، وأبو داود فى (سننه) برقم: 432، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1255، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5399، 5420، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3671»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1640 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1640
فوائد:
➊ اگر امام قصداً نماز میں تاخیر کرے تو انفرادی طور پر اول وقت پر نماز پڑھنا مستحب ہے۔
➋ پھر اگر نمازِ باجماعت مل جائے تو اس میں شامل ہونے سے انکار نہ کیا جائے۔
➌ بلکہ جماعت میں شامل ہونے سے جماعت کا ثواب بھی ملے گا اور جماعت کے ساتھ پڑھی گئی اس کی نماز نفل شمار ہوگی۔
➊ اگر امام قصداً نماز میں تاخیر کرے تو انفرادی طور پر اول وقت پر نماز پڑھنا مستحب ہے۔
➋ پھر اگر نمازِ باجماعت مل جائے تو اس میں شامل ہونے سے انکار نہ کیا جائے۔
➌ بلکہ جماعت میں شامل ہونے سے جماعت کا ثواب بھی ملے گا اور جماعت کے ساتھ پڑھی گئی اس کی نماز نفل شمار ہوگی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1640]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1640 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود