صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1086. (135) باب النهي عن ترك الصلاة جماعة نافلة بعد الصلاة منفردا فريضة
تنہا فرض نماز پڑھ لینے کے بعد جماعت کے ساتھ بطور نفل نماز نہ پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1639
نا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيَتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟" فَقَالَ لَهُ:" صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَلا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، فَلا أُصَلِّي" . لَمْ يَقُلْ بُنْدَارٌ:" صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں کے درمیان ہوگے جو نماز کو اُس کے وقت سے مؤخر کرکے ادا کریں گے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں فرمایا: ”تم نماز وقت پر پڑھ لینا - پھر تم اُنہیں اس حال میں پاؤ کہ اُنہوں نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو تم اُن کے ساتھ بھی، نماز پڑھ لو اور یہ نہ کہو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا میں (ان کے ساتھ نماز) نہیں پڑھتا۔“ جناب بندار نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے کہ ”تم نماز کو اُس کے وقت پر ادا کرنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري