صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1088. (137) باب النهي عن إعادة الصلاة على نية الفرض
فرض نماز کی نیت سے نماز کو دوبارہ پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 1641
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، نا عِيسَى ، عَنْ حُسَيْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْبَلاطِ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ، فَقُلْتُ: أَلا تُصَلِّي؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، قُلْتُ: أَلا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا تُصَلُّوا صَلاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" . هَذَا حَدِيثُ عِيسَى
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جبکہ وہ بلاط مقام پر تشریف فرما تھے، اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے - میں نے عرض کی کہ کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ میں نے پوچھا تو کیا آپ ان لوگوں کے ساتھ نماز (با جماعت) ادا نہیں کریں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک دن میں ایک ہی نماز دوبار مت پڑھو۔“ یہ جناب عیسیٰ کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1641، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2396، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 859، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 935، وأبو داود فى (سننه) برقم: 579، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3713، 3714، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1542، 1543، 1544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4780»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1641 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1641
فوائد:
◈ استذکار میں احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا اتفاق ہے کہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص فرض نماز ادا کرے، پھر فرض کی ادائیگی کے بعد اسی نماز کو دوبارہ فرض نماز کی نیت سے ادا کرے۔
بہر حال جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ دوسری نماز بطور نفل ادا کرے، تو یہ ایک دن میں ایک نماز کو دو مرتبہ دہرانا نہیں، کیونکہ اس کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل ہے، یہ نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ [عون المعبود: 194/2]
◈ استذکار میں احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا اتفاق ہے کہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص فرض نماز ادا کرے، پھر فرض کی ادائیگی کے بعد اسی نماز کو دوبارہ فرض نماز کی نیت سے ادا کرے۔
بہر حال جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ دوسری نماز بطور نفل ادا کرے، تو یہ ایک دن میں ایک نماز کو دو مرتبہ دہرانا نہیں، کیونکہ اس کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل ہے، یہ نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ [عون المعبود: 194/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1641]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1641 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← عبد الله بن عمر العدوي