صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1098. (147) باب الرخصة فى ترك العميان الجماعة فى الأمطار، والسيول.
نابینا افراد کو بارشوں اور سیلابوں میں نماز با جماعت ترک کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 1654
وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي. وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ تَقَعُ عَلَى مَنْ فِي بَصَرِهِ سَوْءٌ، وَإِنْ كَانَ يُبْصِرُ بَصَرَ سَوْءٍ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَدْ صَارَ أَعْمَى لا يُبْصِرُ، لَسْتُ أَشُكُّ إِلا أَنَّهُ قَدْ صَارَ بَعْدَ ذَلِكَ أَعْمَى لَمْ يَكُنْ يُبْصِرُ، فَأَمَّا وَقْتَ سُؤَالِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا سَأَلَ إِلَى أَنْ أَيْقَنْتُ فِي لَفْظِ هَذَا الْخَبَرِ. حَدَّثَنَا بِخَبَرِ مَعْمَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ،" وَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ
جناب معمر کی امام زہری سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ بیشک میری نظر کمزور ہوگئی ہے۔ یہ الفاظ اس شخص پر بولے جاتے ہیں جس کی بینائی میں نقص و کمزوری ہو اگرچہ اسے تھوڑا سا دکھائی بھی دیتا ہو - اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مکمّل نابینا ہو چکے ہوں اور اُنہیں کچھ دکھائی نہ دیتا ہو- مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بعد میں مکمّل بینائی سے محروم ہوگئے تھے، وہ بالکل دیکھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن جب اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا تو اُس وقت اُن کی بینائی میں کچھ نقص تھا (مکمّل نابینا نہ تھے) حتّیٰ کہ مجھے اس روایت کے الفاظ سے یقین ہوگیا (کہ واقعی وہ سوال کے وقت مکمّل نابینا نہ تھے)۔ جناب معمر کی روایت میں الفاظ ہیں۔ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، بلاشبہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور سیلاب میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ (اس لئے) میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر کسی جگہ نماز ادا کریں جسے میں اپنے لئے جائے نماز بنا لوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (تمہاری یہ خواہش پوری) کروں گا ان شاء اللہ۔“ پھر مکمْل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، 1654، 1673، 1709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عتبان بن مالك الأنصاري | صحابي | |
👤←👥محمود بن الربيع الخزرجي، أبو محمد، أبو نعيم محمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري | صحابي صغير | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمود بن الربيع الخزرجي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1654 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1654
فوائد:
➊ نابینا شخص کا امام بننا جائز ہے اور نابینا کی امامت سے نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔
➋ بارش کی صورت میں گھر پر نماز پڑھنا جائز ہے اور گھر میں نماز کے لیے کوئی خاص جگہ مقرر کی جا سکتی ہے۔ نیز کسی صالح شخص سے گھر پر نماز کے لیے جگہ مختص کرانا جائز ہے۔
➌ نماز چاشت کا باجماعت اہتمام کرنا جائز ہے۔
➍ رضائے الٰہی سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے والا جنتی ہے۔ خواہ اس کا میل جول منافقین کے ساتھ بھی ہو، اور محض ظن سے کسی کو منافق کہنا درست نہیں۔ تاہم یہ روایت منافقین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔
➊ نابینا شخص کا امام بننا جائز ہے اور نابینا کی امامت سے نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔
➋ بارش کی صورت میں گھر پر نماز پڑھنا جائز ہے اور گھر میں نماز کے لیے کوئی خاص جگہ مقرر کی جا سکتی ہے۔ نیز کسی صالح شخص سے گھر پر نماز کے لیے جگہ مختص کرانا جائز ہے۔
➌ نماز چاشت کا باجماعت اہتمام کرنا جائز ہے۔
➍ رضائے الٰہی سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے والا جنتی ہے۔ خواہ اس کا میل جول منافقین کے ساتھ بھی ہو، اور محض ظن سے کسی کو منافق کہنا درست نہیں۔ تاہم یہ روایت منافقین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1654]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1654 in Urdu
محمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري