صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1109. (158) باب الدليل على أن النهي عن إتيان المساجد لآكلهن نيئا غير مطبوخ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ پیاز و لہسن وغیرہ کھانے والے کو مساجد میں آنے کی ممانعت اُس وقت ہے جب اُس نے انہیں پکائے بغیر کچّا ہی کھایا ہوا
حدیث نمبر: 1666
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمّ قَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ مَا أَرَاهُمَا إِلا خَبِيثَتَيْنِ، هَذَا الثُّومَ، وَهَذَا الْبَصَلَ، وَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ يُوجَدُ رِيحُهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ، فَيُخْرَجُ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، وَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا"
جناب معدان سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا کہ لوگو، بیشک تم ان دو پودوں سے کھاتے ہو اور میرے نزدیک یہ دونوں بدبُودار ہیں، ایک لہسن ہے اور دوسرا پیاز۔ اور میں ایک آدمی کو دیکھا کرتا تھا کہ اُس کے مُنہ سے (ان کی) بدبُو محسوس کی جاتی تو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ (لہٰذا) جو شخص انہیں کھانا چاہے تو وہ ان کو پکا کران کی بُوختم کرلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 567، 1617، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1878، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1666، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2091، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 707، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 90، والحميدي فى (مسنده) برقم: 10»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1666 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← عمر بن الخطاب العدوي