صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1118. (167) باب الوتر جماعة فى غير رمضان
رمضان المبارک کے علاوہ دنوں میں وتر باجماعت ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1675
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادِ،" وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ، حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ،" فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، فَفَتَلَهَا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ" . هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر تے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی خالہ اُم المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، تومیں تکیے کی چوڑائی کے رُخ لیٹ گیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے تکیے کی لمبائی کے رُخ لیٹ گئے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتّیٰ کہ آدھی رات ہوگئی یا آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اپنے چہرہ مبارک کو ہاتھوں سے ملا پھر سورة آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی - پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اور اُس سے (پانی لیکر) اپنا بہترین وضوکیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ السلام نے کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑاہوگیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مسلا - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں - پھر دو ہلکی سی رکعات پڑھیں - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا کی۔ یہ ربیع کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1675 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1675
فوائد:
➊ اکیلے مقتدی کا مقام امام کے دائیں جانب ہے، اور اگر مقتدی امام کے بائیں جانب کھڑا ہو تو اسے گھما کر دائیں جانب لایا جائے گا۔ اور عمل قلیل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ بچے کی نماز صحیح ہے اور امام کے ساتھ اس کا مقام بالغ شخص کی طرح ہے۔
➌ نوافل باجماعت ادا کرنا جائز ہے۔ [شرح النووي: 43/6]
➍ رمضان کی طرح غیر رمضان میں رات کے نوافل اور وتر کا باجماعت اہتمام کرنا جائز ہے۔
➊ اکیلے مقتدی کا مقام امام کے دائیں جانب ہے، اور اگر مقتدی امام کے بائیں جانب کھڑا ہو تو اسے گھما کر دائیں جانب لایا جائے گا۔ اور عمل قلیل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ بچے کی نماز صحیح ہے اور امام کے ساتھ اس کا مقام بالغ شخص کی طرح ہے۔
➌ نوافل باجماعت ادا کرنا جائز ہے۔ [شرح النووي: 43/6]
➍ رمضان کی طرح غیر رمضان میں رات کے نوافل اور وتر کا باجماعت اہتمام کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1675]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1675 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي