صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1128. (177) باب اختيار صلاة المرأة فى حجرتها على صلاتها فى دارها،
عورت کی اپنے حجرے میں ادا کی گئی نماز اس کے گھر (صحن) میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے
حدیث نمبر: Q1689
وَصَلَاتِهَا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَتْ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْدِلُ أَلْفَ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهَا مِنَ الْمَسَاجِدِ، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، أَرَادَ بِهِ صَلَاةَ الرِّجَالِ دُونَ صَلَاةِ النِّسَاءِ.
حدیث نمبر: 1689
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلاةَ مَعَكَ، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاةَ مَعِي، وَصَلاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِي". فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عبد اللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی جو کہ سیدنا ابوحمیدی الساعدی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں، اُن سے روایت کر تے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں آپ کے ساتھ نماز (باجماعت) ادا کرنا پسند کرتی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز (باجماعت) ادا کرنا پسند کرتی ہو، حالانکہ تمھاری اپنے چھوٹے کمرے میں نماز، تمھاری اپنے بڑے کمرے (یا باہر والے کمرے) میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے - اور تمھاری اپنے بڑے کمرے میں نماز تمھاری اپنے صحن میں نماز سے بہتر ہے اور تمھاری اپنے صحن میں نماز تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز کی ادائیگی میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے لہٰذا اُن کے حُکم پر اُن کے لئے ان کے گھر کے آخری اور اندھیرے حصّے میں مسجد بنادی گئی تو وہ اُس مسجد میں نماز پڑھتی تھیں حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں۔ (فوت ہوگئیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1689، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2217، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5454، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7702، والطبراني فى(الكبير) برقم: 356»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1689 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1689
فوائد:
➊ عورت کا گھر کے انتہائی خفیہ حصے میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➋ عورت کے لیے گھر کے کسی بھی گوشے میں نماز پڑھنا محلے کی مسجد اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، اگرچہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب ہزار نماز کے برابر ہے۔ لیکن عورت کا گھر پر نماز پڑھنا اس سے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے، اس لیے عورتوں کو گھر پر نماز پڑھنی چاہیے۔
➊ عورت کا گھر کے انتہائی خفیہ حصے میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➋ عورت کے لیے گھر کے کسی بھی گوشے میں نماز پڑھنا محلے کی مسجد اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، اگرچہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب ہزار نماز کے برابر ہے۔ لیکن عورت کا گھر پر نماز پڑھنا اس سے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے، اس لیے عورتوں کو گھر پر نماز پڑھنی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1689]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1689 in Urdu
عبد الله بن سويد الأنصاري ← أم حميد الساعدية