صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1149. (198) باب إباحة استقبال الإمام بوجهه بعد السلام
سلام پھیرنے کے بعد امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q1715
إِذَا لَمْ يَكُنْ مُقَابِلُهُ مَنْ قَدْ فَاتَهُ بَعْضُ صَلَاةِ الْإِمَامِ فَيَكُونَ مُقَابِلَ الْإِمَامِ إِذَا قَامَ يَقْضِي.
جبکہ اس کے سامنے کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کی کچھ نماز امام کے ساتھ فوت ہوگئی ہو۔ لہٰذا جب وہ کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمّل کرے گا تو وہ امام کے سامنے ہوگا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: Q1715]
حدیث نمبر: 1715
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو ہماری طرف اپنا چہرہ مبارک کر کے متوجہ ہوئے - [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 426، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1602، 1715، 1716، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 797، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1362، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1288، وأبو داود فى (سننه) برقم: 624، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1356، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2634، 3107، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12179»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1715 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1715
فوائد:
➊ سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی جانب پھرنا مستحب فعل ہے۔
➊ سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی جانب پھرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1715]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1715 in Urdu
مختار بن فلفل القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري