صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1148. (197) باب تخيير الإمام فى الانصراف من الصلاة أن ينصرف يمنة، أو ينصرف يسرة.
امام کو اختیار ہے کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر دائیں طرف یا بائیں طرف پھرے
حدیث نمبر: 1714
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، نا عِيسَى . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا , لا يَرَى إِلا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لا يَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ، أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص شیطان کے لئے اپنے نفس سے حصّہ مقرر نہ کرے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی پھرنے کو اپنے لئے صحیح اور ضروری سمجھے - میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم کو اکثر اپنی بائیں طرف پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 852، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 707، ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1714، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1997، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1359، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 930، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3667، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3705، والحميدي فى (مسنده) برقم: 127»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1714 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1714
فوائد:
➊ سلام پھیرنے کے بعد امام کا مقتدیوں کی جانب پھرنا مسنون ہے اور مقتدیوں کی جانب رخ کرتے وقت دائیں اور بائیں دونوں جانب سے پھرنا جائز و مباح ہے۔
➋ یہ اعتقاد رکھنا کہ صرف دائیں جانب ہی سے مڑنا مشروع ہے، درست نہیں۔
➊ سلام پھیرنے کے بعد امام کا مقتدیوں کی جانب پھرنا مسنون ہے اور مقتدیوں کی جانب رخ کرتے وقت دائیں اور بائیں دونوں جانب سے پھرنا جائز و مباح ہے۔
➋ یہ اعتقاد رکھنا کہ صرف دائیں جانب ہی سے مڑنا مشروع ہے، درست نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1714]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1714 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود