صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس علت کا بیان جس کی وجہ سے تنا رونا شروع ہو گیا تھا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی بناوٹ، سیڑھیوں کی تعداد اور جب زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا جائے تو کسی کا سہارا لینے بیان
حدیث نمبر: 1777
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى جِذْعٍ مَنْصُوبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَيَخْطُبُ , فَجَاءَ رُومِيٌّ فَقَالَ: أَلا نَصْنَعُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ وَكَأَنَّكَ قَائِمٌ؟ فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، لَهُ دَرَجَتَانِ , وَيَقْعُدُ عَلَى الثَّالِثَةِ , فَلَمَّا قَعَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ خَارَ الْجِذْعُ خُوَارَ الثَّوْرِ، حَتَّى ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ بِخُوَارِهِ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ , فَالْتَزَمَهُ وَهُوَ يَخُورُ , فَلَمَّا الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ , ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ مَا زَالَ هَكَذَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِنَ يَعْنِي الْجِذْعَ . وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہوتے تو مسجد میں نصب ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے۔ پھر ایک رومی شخص آیا تو اُس نے عرض کی کہ کیا ہم آپ کے لئے ایک ایسی چیز نہ بنادیں کہ آپ اُس پر بیٹھ جائیں تو کھٹرے محسوس ہوں؟ اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک منبر بنایا جس کی دو سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری سیڑھی پر بیٹھے تھے ـ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تنے نے بیل کی طرح رونا شروع کر دیا - حتّیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں اُس کے رونے کی آواز سے مسجد گونج اُٹھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اُتر کر اُس کے پاس تشریف لائے اور اُسے اپنے ساتھ چمٹا لیا وہ رو رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ساتھ چمٹایا تو وہ خاموش ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں اسے اپنے ساتھ نہ چمٹاتا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں تا قیامت اسی طرح روتا رہتا ـ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم سے تنے کو دفن کر دیا گیا ـ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر (خطبہ) کی جدائی میں رویا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1777]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1776، 1777، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6507، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3627، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2273»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1777 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1777
فوائد:
➊ منبر کے استعمال سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر ایک ستون کا سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنانے کا حکم دیا اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد کرنا شروع کیا، لہٰذا خطبہ جمعہ کے لیے منبر کا استعمال مسنون ہے۔
➋ جمادات میں حس موجود ہے اور محبوب کی جدائی سے انہیں بھی صدمہ لاحق ہوتا ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد کرتے تھے۔
➊ منبر کے استعمال سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر ایک ستون کا سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنانے کا حکم دیا اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد کرنا شروع کیا، لہٰذا خطبہ جمعہ کے لیے منبر کا استعمال مسنون ہے۔
➋ جمادات میں حس موجود ہے اور محبوب کی جدائی سے انہیں بھی صدمہ لاحق ہوتا ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد کرتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1777]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1777 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري