صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. (141) باب الرخصة فى المسح على العمامة.
پگڑی پر مسح کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 181
نا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، وَعَلَى عِمَامَتِهِ"
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں اور اپنی پگڑی پر مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 204، 205، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 181، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1343، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 562، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1300، 1301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17517»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 181 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 181
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ پگڑی پر مسح جائز ہے اور سر کے مسح کے قائم مقام ہے۔
◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
➊ پگڑی پر مسح کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے اور اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوثور اور داؤد بن علی پگڑی پر مسح کے جواز کے قائل ہیں۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر پگڑی پر مسح کے متعلق حدیث صحیح ہو تو میرا بھی یہی موقف ہے۔
امام ترمذی بیان کرتے ہیں کہ کئی اہل علم صحابہ مثلاً ابوبکر، عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی پگڑی پر مسح کا جواز منقول ہے۔
➋ پگڑی پر مسح کے بارے میں ثابت احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ فقط سر کا مسح، محض پگڑی کا مسح اور سر اور پگڑی کا مسح، یہ تین صورتیں ثابت ہیں۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ پگڑی پر مسح جائز ہے اور سر کے مسح کے قائم مقام ہے۔
◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
➊ پگڑی پر مسح کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے اور اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوثور اور داؤد بن علی پگڑی پر مسح کے جواز کے قائل ہیں۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر پگڑی پر مسح کے متعلق حدیث صحیح ہو تو میرا بھی یہی موقف ہے۔
امام ترمذی بیان کرتے ہیں کہ کئی اہل علم صحابہ مثلاً ابوبکر، عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی پگڑی پر مسح کا جواز منقول ہے۔
➋ پگڑی پر مسح کے بارے میں ثابت احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ فقط سر کا مسح، محض پگڑی کا مسح اور سر اور پگڑی کا مسح، یہ تین صورتیں ثابت ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 181]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 181 in Urdu
جعفر بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري