صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ میں حاضر ہونے والوں کے مراتب
حدیث نمبر: 1813
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عن ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلاثَةٌ: رَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو , فَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا , وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ , فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ , فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَعْطَاهُ , وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ , وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِوَقَارٍ وَإِنْصَاتٍ وَسُكُونٍ , وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ , وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا , فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ؛ لأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160"
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے لئے تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں، ایک وہ شخص ہے جو جمعہ کے لئے حاضر ہوتا ہے اور لغو کام کرتا ہے تو اس جمعہ سے اس کا یہی حصّہ ہے اور دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے حاضر ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اُسے عطا کردے اور اگر چاہے تو عطا نہ کرے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو وقار کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے۔ خاموش اور پر سکون رہتا ہے، کسی مسلمان شخص کی گردن نہیں پھلانگتا اور نہ کسی کو تکلیف دیتاہے تو وہ اس کے لئے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں اور مزید تین دن کے گناہوں کا کفّارہ بن جاتا ہے ـ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [ سورة الأنعام: 160 ] ”جو شخص ایک نیکی لائے گا تو اُسے دس گنا اجر دیا جائے گا ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1113، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5911، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6816، 7122»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1813 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1813
فوائد:
➊ جمعہ میں لغو و لہو اور غل غپاڑہ کرنے والے جمعہ کے اجر و ثواب کے بجائے گناہ کے سزاوار ٹھہرتے ہیں۔
➋ کچھ لوگ فقط دعا کے لیے حاضر ہوتے ہیں، اگر اللہ چاہے تو ان کی دعا قبول کر لیتا ہے، وہ جمعہ کے اجر و ثواب سے محروم رہتے ہیں۔
➌ جمعہ کے اجر و ثواب سے وہ شخص مستفید ہوتا ہے جو رضائے الٰہی کا متلاشی ہے اور آدابِ جمعہ کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اس کے اس جمعہ سے لے کر آئندہ دس روز تک کے صغیرہ گناہ محو ہو جاتے ہیں۔ اور کئی گنا اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔
➊ جمعہ میں لغو و لہو اور غل غپاڑہ کرنے والے جمعہ کے اجر و ثواب کے بجائے گناہ کے سزاوار ٹھہرتے ہیں۔
➋ کچھ لوگ فقط دعا کے لیے حاضر ہوتے ہیں، اگر اللہ چاہے تو ان کی دعا قبول کر لیتا ہے، وہ جمعہ کے اجر و ثواب سے محروم رہتے ہیں۔
➌ جمعہ کے اجر و ثواب سے وہ شخص مستفید ہوتا ہے جو رضائے الٰہی کا متلاشی ہے اور آدابِ جمعہ کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اس کے اس جمعہ سے لے کر آئندہ دس روز تک کے صغیرہ گناہ محو ہو جاتے ہیں۔ اور کئی گنا اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1813]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1813 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي