صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ اگر کوئی شخص جمعہ والے دن اپنی جگہ سے اُٹھ جائے پھر واپس آجائے جبکہ اس کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص بیٹھ چکا ہوتو وہ شخص بیٹھنے والے کی نسبت اس جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے
حدیث نمبر: 1821
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" . زَادَ يُوسُفُ: ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ , فَجَلَسْتُ فِيهِ , فَعَادَ فَأَقَامَنِي أَبُو صَالِحٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اُٹھ جائے، پھر وہ واپس آجائے تو وہ اُس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔“ جناب یوسف نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ”پھر ایک شخص اپنی جگہ سے اُٹھ گیا تو میں اس کی جگہ پر بیٹھ گیا پھر وہ واپس آیا تو جناب ابوصالح نے مجھے اُٹھا دیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2179، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 588، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4853، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2696، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5983، 11957، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7683»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1821 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1821
فوائد:
فوائد:
➊ اگر کوئی شخص مسجد میں کسی جگہ یا نشست کا انتخاب کر چکا ہے، پھر وضو یا کسی اور عارض کی وجہ سے وہ جگہ چھوڑ کر وضو وغیرہ کے لیے جاتا ہے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
➋ اور اگر کوئی شخص وہاں آ کر بیٹھ چکا ہو تو اسے وہ نشست خالی کر دینی چاہیے۔
فوائد:
➊ اگر کوئی شخص مسجد میں کسی جگہ یا نشست کا انتخاب کر چکا ہے، پھر وضو یا کسی اور عارض کی وجہ سے وہ جگہ چھوڑ کر وضو وغیرہ کے لیے جاتا ہے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
➋ اور اگر کوئی شخص وہاں آ کر بیٹھ چکا ہو تو اسے وہ نشست خالی کر دینی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1821]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1821 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي