صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
امام کے خطبہ کے دوران لوگوں کا امام کو چھوڑ کر کھیل تماشے یا تجارت کی طرف دوڑ جانا منع ہے
حدیث نمبر: 1823
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا , فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ , فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا , فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جب ایک تجارتی قافلہ شام سے آگیا۔ تو لوگ (آپ کو چھوڑ کر) اُس کی طرف چلے گئے حتّیٰ کہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تو سورة الجمعة کی یہ آیت نازل ہوئی «وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا» [ سورة الجمعة: 11 ] ”اور جب وہ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 936، 2058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 863، وابن الجارود فى "المنتقى"، 321، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1823، 1852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3311، 3311 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5706، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1583، 1584، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14579»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1823 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1823
فوائد:
➊ خطبہ جمعہ سنتے وقت سامعین کی توجہ خطیب کی طرف ہونی چاہیے اور کسی دوسری چیز یعنی سامانِ تجارت یا کھیل وغیرہ کی طرف دھیان دینا مکروہ ہے۔
➋ دورانِ خطبہ کتنا ہی مفید اور اہم کام سامنے ہو یا کتنا ہی عظیم سانحہ رونما کیوں نہ ہو، خطیب کو چھوڑ کر کسی اور کام میں مشغول ہونا انتہائی قبیح فعل اور مجرمانہ حرکت ہے۔ کیونکہ خطبہ کا اجر و ثواب دنیاوی منفعت سے کہیں بہتر اور بیش قیمت ہے۔
➌ خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے۔ البتہ کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے۔
➊ خطبہ جمعہ سنتے وقت سامعین کی توجہ خطیب کی طرف ہونی چاہیے اور کسی دوسری چیز یعنی سامانِ تجارت یا کھیل وغیرہ کی طرف دھیان دینا مکروہ ہے۔
➋ دورانِ خطبہ کتنا ہی مفید اور اہم کام سامنے ہو یا کتنا ہی عظیم سانحہ رونما کیوں نہ ہو، خطیب کو چھوڑ کر کسی اور کام میں مشغول ہونا انتہائی قبیح فعل اور مجرمانہ حرکت ہے۔ کیونکہ خطبہ کا اجر و ثواب دنیاوی منفعت سے کہیں بہتر اور بیش قیمت ہے۔
➌ خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے۔ البتہ کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1823]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1823 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري