صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور سورة الغاشيه کی قراءت کرنا جائز ہے اور قراءت کا یہ اختلاف جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہے
حدیث نمبر: 1847
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نا شُعْبَةُ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ اجْتِمَاعَ الْعِيدِ وَالْجُمُعَةِ فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ، وَالْقِرَاءَةَ فِيهِمَا فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورة الأعلى «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور سورة الغاشية «هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» پڑھا کرتے تھے - امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”ایک ہی دن میں عید اور جمعہ کے جمع ہونے اور ان میں قراءت کے بارے میں احادیث میں کتاب العیدین میں لکھوا چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1847، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2808، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1421، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5807، 6280، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20397»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1847 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1847
فوائد:
نمازِ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت بھی مستحب فعل ہے۔
گزشتہ روایات اور حدیثِ الباب دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نمازِ جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون یا بعض اوقات سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔
لہٰذا نمازِ جمعہ میں ان سورتوں کا رد و بدل جائز اور مستحب فعل ہے۔
نمازِ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت بھی مستحب فعل ہے۔
گزشتہ روایات اور حدیثِ الباب دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نمازِ جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون یا بعض اوقات سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔
لہٰذا نمازِ جمعہ میں ان سورتوں کا رد و بدل جائز اور مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1847]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1847 in Urdu
زيد بن عقبة الفزاري ← سمرة بن جندب الفزاري