علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز جمعہ اور نفل نماز کے درمیان گفتگو کرکے یا مسجد سے نکل کر فاصلہ کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1867
نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ، قُمْتُ أُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: " إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلا تَصِلْهَا بِصَلاةٍ إِلا أَنْ تَخْرُجَ، أَوْ تَتَكَلَّمَ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ"
جناب عمر بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا تو میں نے اُن سے مسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں، میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز محراب میں ادا کی ـ پھر جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے کھڑے ہوکر (نفل) نماز شروع کردی تو اُنہوں نے مجھے بلانے کے لئے آدمی بھیجا ـ میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے مجھ سے کہا، جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو وہاں سے نکلے بغیر یا کلام کرنے سے پہلے جمعہ کی نماز کے ساتھ کوئی اور نماز مت ملاؤ ـ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کا حُکم دیا ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1867]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 883، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1705، 1867، 1868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1129، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3098، 3099، 6025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17141»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1867 in Urdu
السائب بن يزيد الكندي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي