صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. (146) باب ذكر الخبر المفسر للألفاظ المجملة التى ذكرتها،
(مسح کے متعلق) گذشتہ مجمل الفاظ کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: Q190
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّخْصَةَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلَابِسِهَا عَلَى طَهَارَةٍ، دُونَ لَابِسِهَا مُحْدِثًا غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ.
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ موزوں پرمسح کرنے کی رُخصت اُس شخص کے لئے ہے جس نے انہیں وضو کر کے پہنا ہوں جس نے بغیر طہارت کے بلا وضو پہنے ہوں اس کے لیے نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: Q190]
حدیث نمبر: 190
نا أَبُو الأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، کیونکہ میں نے انہیں دونوں پاؤں کی طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عروة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي