صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ہر روزے کے لئے نیت اس دن کے طلوع فجر سے پہلے پہلے کرنا واجب ہے۔ اُن لوگوں کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ پورے مہینے کے لئے ایک ہی وقت میں ایک ہی بار نیت کرلینا جائز ہے
امام ابوبکر رحمه ﷲ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث کہ بیشک اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور بلاشبہ ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی کتاب الوضوء میں لکھوا چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1، 54، 2529، 3898، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1907،، وابن الجارود فى "المنتقى"، 71، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 142، 143، 455، 1934، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 388، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 75، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2201، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1647، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 182، والدارقطني فى (سننه) برقم: 131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 170، 306، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 37، والحميدي فى (مسنده) برقم: 28»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1934 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1934
فوائد:
➊ نیت کے بغیر روزہ فاسد ہے اور روزہ دار طلوع فجر سے قبل رات کے کسی حصے میں فرض روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔ [المغنی لابن قدامہ: 6/40]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ رات کو (فرض) روزہ کی نیت کرنا واجب ہے۔ [نیل الاوطار: 7/30]
رمضان کے شروع میں پہلی رات تمام مہینے کے روزوں کی نیت کر لینا تمام مہینے کے روزوں کے لیے کافی نہیں، کیونکہ رمضان کا ہر روزہ منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ لہٰذا ہر روز علیحدہ نیت کرنی چاہیے۔ [عون المعبود: 5/340]
➌ نیت دل سے کی جاتی ہے، اس کا زبان سے کوئی تعلق نہیں۔ «وبصوم غد نويت من شهر رمضان» کے الفاظ ثابت نہیں ہیں۔
➊ نیت کے بغیر روزہ فاسد ہے اور روزہ دار طلوع فجر سے قبل رات کے کسی حصے میں فرض روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔ [المغنی لابن قدامہ: 6/40]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ رات کو (فرض) روزہ کی نیت کرنا واجب ہے۔ [نیل الاوطار: 7/30]
رمضان کے شروع میں پہلی رات تمام مہینے کے روزوں کی نیت کر لینا تمام مہینے کے روزوں کے لیے کافی نہیں، کیونکہ رمضان کا ہر روزہ منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ لہٰذا ہر روز علیحدہ نیت کرنی چاہیے۔ [عون المعبود: 5/340]
➌ نیت دل سے کی جاتی ہے، اس کا زبان سے کوئی تعلق نہیں۔ «وبصوم غد نويت من شهر رمضان» کے الفاظ ثابت نہیں ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1934]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1934 in Urdu