صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
غروب آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرلینے کا بیان جبکہ روزے دار کے خیال میں سورج غروب ہوچکا تھا
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: قُلْتُ لِهِشَامٍ. وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: فَقِيلَ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْسَ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، وَهَذَا مِنْ قَوْلِ هِشَامٍ: بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ. لا فِي خَبَرٍ، وَلا يَبِينُ عِنْدِي أَنَّ عَلَيْهِمُ الْقَضَاءَ، فَإِذَا أَفْطَرُوا وَالشَّمْسُ عِنْدَهُمْ قَدْ غَرَبَتْ، ثُمَّ بَانَ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ غَرَبَتْ كَقَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ:" وَاللَّهِ مَا نَقْضِي مَا يُجَانِفُنَا مِنَ الإِثْمِ"
سیدہ اسما ء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رمضان المبارک میں ہم نے ایک بادل والے دن روزہ افطار کرلیا، پھر سورج نکل آیا۔ جناب محمد بن علاء کی روایت میں ہے کہ میں نے ہشام سے کہا۔ اور ابوعمار کی روایت میں ہے کہ ہشام سے پوچھا گیا، کیا صحابہ کرام کو قضاء ادا کرنے کا حُکم دیا گیا تھا؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اس کے بغیر کوئی چارہ ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت میں یہ بات مذکور نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو قضا ادا کرنے کا حُکم ملا تھا۔ یہ تو ہشام رحمه الله کا قول ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ یہ روایت کے الفاظ نہیں ہیں۔ میرے نزدیک ان پر اس وقت قضاء واجب نہیں جبکہ وہ سورج کو غروب سمجھ کر روزہ افطار کرلیں پھر بعد میں معلوم ہوا کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی قسم جب تک ہم گناہ کے ارتکاب سے اجتناب کریں گے۔ ہم قضاء ادا نہیں کریں گے۔ (یعنی جب ہم نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تو قضا بھی نہیں دیں گے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1959، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1991، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2359، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1674، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8108، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2375، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27569»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1991 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1991
فوائد:
➊ اگر آسمان پر بادل یا دھند کی وجہ سے غروبِ آفتاب کا علم نہ ہو سکے اور روزہ دار غروبِ آفتاب سے قبل روزہ افطار کر لیں۔ بعد ازاں سورج نظر آئے، تو اس صورت میں ان لوگوں پر قضا واجب ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علما کا اختلاف ہے۔ جمہور علما کا موقف ہے کہ اس صورت میں روزے کی قضا واجب ہے۔ [فتح الباري: 4/255]
➋ اگر کوئی شخص یہ گمان کر کے روزہ افطار کر لے کہ سورج غروب ہو چکا ہے، حالانکہ سورج غروب نہ ہوا ہو تو ایسے شخص پر روزے کی قضا لازم ہے۔ اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ [المغني: 6/130]
➊ اگر آسمان پر بادل یا دھند کی وجہ سے غروبِ آفتاب کا علم نہ ہو سکے اور روزہ دار غروبِ آفتاب سے قبل روزہ افطار کر لیں۔ بعد ازاں سورج نظر آئے، تو اس صورت میں ان لوگوں پر قضا واجب ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علما کا اختلاف ہے۔ جمہور علما کا موقف ہے کہ اس صورت میں روزے کی قضا واجب ہے۔ [فتح الباري: 4/255]
➋ اگر کوئی شخص یہ گمان کر کے روزہ افطار کر لے کہ سورج غروب ہو چکا ہے، حالانکہ سورج غروب نہ ہوا ہو تو ایسے شخص پر روزے کی قضا لازم ہے۔ اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ [المغني: 6/130]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1991]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1991 in Urdu
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية