صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے کی حالت میں کھانے اور پینے والے پر قضاء اور کفّارہ واجب نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ کھاتے پیتے وقت روزے کو بھول گیا ہو
حدیث نمبر: 1990
نا مُحَمَّدٌ ، وَإِبْرَاهِيمُ ، ابْنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيَّانِ الْبَصْرِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا، لا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلا كَفَّارَةَ" . هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ:" مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا، فَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلا كَفَّارَةَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے بھول کر رمضان المبارک میں روزہ کھول لیا تو اُس پر نہ قضا ادا کرنا واجب ہے نہ کفّارہ۔“ یہ جناب محمد کی روایت ہے۔ جناب ابراہیم اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کرتے ہیں کہ ” جس شخص نے رمضان المبارک میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس پر قضاء اور کفّارہ نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1933، 6669، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1155، وابن الجارود فى "المنتقى"، 428، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1989، 1990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3519، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1574، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3262، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2398، والترمذي فى (جامعه) برقم: 721، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1673، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8167، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2242، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9259»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1990 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1990
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ روزہ میں بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ شافعی، ابوحنیفہ، داؤد ظاہری اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ [شرح النووي: 35/8]
➋ ◈ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ میں بھول چوک سے کھانا پینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور یہ بندوں پر آسانی پیدا کرنے اور مشقت دور کرنے کی خاص نوازش ہے۔
➌ بھول کر کھا پی لینے سے نہ روزہ فاسد ہوتا ہے، نہ کوئی کفارہ ہے اور نہ اس کی قضا ہے۔ ایسے شخص کو روزہ نہیں توڑنا چاہیے، اس کا روزہ قائم و برقرار رہتا ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ روزہ میں بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ شافعی، ابوحنیفہ، داؤد ظاہری اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ [شرح النووي: 35/8]
➋ ◈ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ میں بھول چوک سے کھانا پینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور یہ بندوں پر آسانی پیدا کرنے اور مشقت دور کرنے کی خاص نوازش ہے۔
➌ بھول کر کھا پی لینے سے نہ روزہ فاسد ہوتا ہے، نہ کوئی کفارہ ہے اور نہ اس کی قضا ہے۔ ایسے شخص کو روزہ نہیں توڑنا چاہیے، اس کا روزہ قائم و برقرار رہتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1990]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1990 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي