صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
دین اسلام کے غلبے کا بیان - جب تک مسلمان افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے - اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ دین کا اطلاق اسلام کے بعض شعبوں پربھی ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 2060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسُ , حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ , إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین اسلام اُس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ بلاشبہ یہود و نصاری افطاری کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2060، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3503، الحاكم فى (مستدركه) برقم: 1578، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3299، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9944»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2060 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2060
فوائد:
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس حدیث میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد روزہ افطار کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ دن میں رات کی ساعت کا اضافہ نہ ہو کیونکہ اس سے فرض کی مدت بڑھ جاتی ہے۔ اور افطاری میں اس لیے بھی عجلت کرنی چاہیے کہ روزہ جلد افطار کرنا روزہ دار کے لیے زیادہ مفید اور آئندہ روزہ کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ [شرح ابن بطال: 122/7]
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (ان احادیث میں) غروب آفتاب کے ثبوت کے بعد جلد روزہ افطار کی ترغیب ہے۔ اور جب تک امت اس سنت کی محافظت کرے گی ان میں اتحاد و یگانگت رہے گی اور یہ خیر پر رہے گی۔ اور جب یہ افطاری میں تاخیر کریں گے تو ان میں فساد پھوٹ پڑے گا اور یہ باہمی فساد میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (لہذا باہمی فساد سے بچاؤ کا ایک حل افطاری میں تعجیل ہے)۔ [شرح النووی: 75/4]
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس حدیث میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد روزہ افطار کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ دن میں رات کی ساعت کا اضافہ نہ ہو کیونکہ اس سے فرض کی مدت بڑھ جاتی ہے۔ اور افطاری میں اس لیے بھی عجلت کرنی چاہیے کہ روزہ جلد افطار کرنا روزہ دار کے لیے زیادہ مفید اور آئندہ روزہ کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ [شرح ابن بطال: 122/7]
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (ان احادیث میں) غروب آفتاب کے ثبوت کے بعد جلد روزہ افطار کی ترغیب ہے۔ اور جب تک امت اس سنت کی محافظت کرے گی ان میں اتحاد و یگانگت رہے گی اور یہ خیر پر رہے گی۔ اور جب یہ افطاری میں تاخیر کریں گے تو ان میں فساد پھوٹ پڑے گا اور یہ باہمی فساد میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (لہذا باہمی فساد سے بچاؤ کا ایک حل افطاری میں تعجیل ہے)۔ [شرح النووی: 75/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2060]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2060 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي